عام طور پر جم۔اع کو محض خواہش نفس۔ان۔ی کی تکمیل یا دف۔ع ش۔ہوت کا ذریعہ سمجھا جا تا ہے حالانکہ بدن کو صحت مند اور اعضاء جسم۔ان۔ی کو مستعدد فعال رکھنے کے لیے غذا اور لباس کی طرح جم۔اع کر نا بھی ضروریات بدن میں شامل ہے م۔ادہ تول۔ید یعنی منی جو ہضم چہارم کا فض۔لہ ہے اس کا جسم انسانی سے وقتاً فوقتاً نکلتے رہنا بھی ضروری ہے ۔

اگر یہ ف۔ضلہ عرصہ دراز تک جسم انس۔ان۔ی سے دفع و خارج نہ ہوتو اس کا روکاؤ نہ صرف طبیعت کو بوجھل رکھتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات بڑا فسا د پیدا کرتاہے ۔ یہی سبب ہے کہ جو گرم مزاج نوجوان مرد اپنی طبیعت پر جبر کرکے شادی نہیں کرتے وہ اکثر امراض ج۔نون اور فس۔اد خ۔ون میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ جدید علم نفسیات میں ج۔ن۔س۔ی رغبت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے ۔ جدید ماہرین نفسیات، فلاسفر اور فرائیڈجیسے دانشوروں کے نزدیک انسان کی پیدائش سے لے کر م۔وت تک کا تمام دستور العمل ج۔ن۔سی رغبت کے ذریعہ ہی جاری رہتا ہے۔

جم۔اع کے ذریعہ بدن کے ف۔ضلات (غیر ضروری اجزاء) دفع ہو جانے سے بدن سبک اور ہلکا ہو جاتا ہے ۔ طبیعت میں خوشی ونشاط اور جولانیت پیدا ہو جاتی ہے جو بدن کو غذا کی خواہش و قبول کرنے پر آم۔ادہ کرتی ہے ۔ جس سے خو ب بھوک لگتی ہے جم۔اع غ۔ضب و غ۔صہ کو ساکن کرتا ہے ۔ برے خیالات او ر وسوسوں کو دور کرتا ہے روشن خیالی پیدا کرتا ہے ۔ جم۔اع کے وقت اخراج منی پر جو بے پایاں کیف و سرور حاصل ہوتا ہے۔ ا س کو الفاظ کے ذریعہ سے کسی نابالغ لڑکے کو ان۔زال کی ل۔ذت الفاظ کے ذریعہ نہیں سمجھائی جا سکتی ہے ۔

یہی ان۔زال یا اخراج منی اگر ج۔لق یا کسی اور غ۔یر ف۔طری طریقہ سے ہو تو یہ بات حاصل نہیں ہوتی ۔ غ۔یر ف۔طری طریقوں سے مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ بعض لوگ ج۔ن۔سی خواہش کو گ۔ناہ اور مب۔اش۔رت کو غیر شریفانہ ف۔عل سمجھتے ہیں اور نف۔س ک۔شی کو اعلی ٰو افضل کردار کا جزو اعظم قرار دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خیال میں انسان کی روحانی ترقی کے لیے ن۔فس کی خواہ۔شات کو کچلنا اور ج۔ن۔س لط۔ی۔ف (عورتوں) سے دور اور الگ تھ۔لگ رہنا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک عورت کا ق۔رب آف۔ت و بل۔اؤں میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہ سے محض ش۔یط۔انی فعل سمجھتے ہیں۔
sharing is caring…

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں